کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - بیان کہ جس نے قرآن کو اپنا امام بنا کر اس پر عمل کیا وہ جنت کی طرف رہنمائی پائے گا، اور جس نے اسے پیچھے ڈال دیا وہ جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 124
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الأَجْلَحِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْقُرْآنُ مُشَفَّعٌ ، وَمَا حِلٌ مُصَدَّقٌ ، مَنْ جَعَلَهُ إِمَامَهُ قَادَهُ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَمَنْ جَعَلَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ سَاقَهُ إِلَى النَّارِ " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا خَبَرٌ يُوهُمْ لَفْظُهُ مَنْ جَهِلَ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ أَنَّ الْقُرْآنَ مَجْعُولٌ مَرْبُوبٌ ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، لَكِنَّ لَفْظَهُ مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا : إِنَّ الْعَرَبَ فِي لُغَتِهَا تُطْلِقُ اسْمَ الشَّيْءِ عَلَى سَبَبِهِ ، كَمَا تُطْلِقُ اسْمَ السَّبَبِ عَلَى الشَّيْءِ ، فَلَمَّا كَانَ الْعَمَلُ بِالْقُرْآنِ قَادَ صَاحِبَهُ إِلَى الْجَنَّةِ أُطْلِقَ اسْمُ ذَلِكَ الشَّيْءِ الَّذِي هُوَ الْعَمَلُ بِالْقُرْآنِ عَلَى سَبَبِهِ الَّذِي هُوَ الْقُرْآنُ ، لا أَنَّ الْقُرْآنَ يَكُونُ مَخْلُوقًا .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” قرآن ایسا سفارشی ہے، جس کی سفارش قبول کی جائے گی اور ایسا جھگڑالو ہے (یعنی وہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے پڑھنے والے کے لئے بحث کرے گا)، جس کی تصدیق کی جائے گی، جو شخص اسے اپنا پیشوا بنائے گا، یہ اسے جنت کی طرف لے جائے گا اور جو شخص اسے پس پشت ڈال دے گا، یہ اسے جہنم کی طرف لے جائے گا ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں:) جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اس روایت کے الفاظ میں اسے اس غلط فہمی کا شکار کیا کہ قرآن کو بنایا گیا ہے اور یہ مخلوق ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ان الفاظ سے مراد یہ ہے: جیسا کہ ہم نے اپنی کتابوں میں یہ بات تحریر کی ہے: عرب اپنے محاور ے میں بعض اوقات کسی چیز کے اسم کا اطلاق اس کے سبب پر کرتے ہیں، جس طرح وہ اس سبب کے اسم کا اطلاق اس چیز پر کر دیتے ہیں۔ تو جب قرآن پر عمل کرنا، کرنے والے شخص کو جنت کی طرف لے جائے گا تو اس چیز یعنی قرآن پر عمل کرنے کے اسم کا اطلاق اس کے سبب یعنی قرآن پر کیا گیا۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ قرآن مخلوق ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں:) جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اس روایت کے الفاظ میں اسے اس غلط فہمی کا شکار کیا کہ قرآن کو بنایا گیا ہے اور یہ مخلوق ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ان الفاظ سے مراد یہ ہے: جیسا کہ ہم نے اپنی کتابوں میں یہ بات تحریر کی ہے: عرب اپنے محاور ے میں بعض اوقات کسی چیز کے اسم کا اطلاق اس کے سبب پر کرتے ہیں، جس طرح وہ اس سبب کے اسم کا اطلاق اس چیز پر کر دیتے ہیں۔ تو جب قرآن پر عمل کرنا، کرنے والے شخص کو جنت کی طرف لے جائے گا تو اس چیز یعنی قرآن پر عمل کرنے کے اسم کا اطلاق اس کے سبب یعنی قرآن پر کیا گیا۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ قرآن مخلوق ہے۔