کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - قرآن کی پیروی کرنے والے کے لیے ہدایت اور اسے چھوڑنے والے کے لیے گمراہی کے ثبوت کا بیان۔
حدیث نمبر: 123
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ : لَقَدْ رَأَيْتَ خَيْرًا ، صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، وَإِنَّهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا ، فَقَالَ : " إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ كِتَابَ اللَّهِ ، هُوَ حَبْلُ اللَّهِ ، مَنِ اتَّبَعَهُ كَانَ عَلَى الْهُدَى ، وَمَنْ تَرَكَهُ كَانَ عَلَى الضَّلالَةِ " .
یزید بن حیان، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ہم نے ان سے گزارش کی آپ نے بھلائی کو دیکھا ہے آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہیں۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نمازیں ادا کی ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ” میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر جا رہا ہوں، یہ اللہ کی رسی ہے، جو شخص اس کی پیروی کرے گا، وہ ہدایت پر گامزن رہے گا اور جو شخص اسے چھوڑ دے گا، وہ گمراہی کے راستے پر ہو گا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب العلم / حدیث: 123
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (4/ 356) نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.