کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - قرآنِ کریم کو سکھانے پر ترغیب کا ذکر اگرچہ انسان نے اسے مکمل نہ سیکھا ہو۔
حدیث نمبر: 115
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ ، فَقَالَ : " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى بُطْحَانَ أَوِ الْعَقِيقِ ، فَيَأْتِيَ كُلَّ يَوْمٍ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ زَهْرَاوَيْنِ يَأْخُذُهُمَا فِي غَيْرِ إِثْمٍ ، وَلا قَطِيعَةِ رَحِمٍ ؟ " ، قَالُوا : كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ يُحِبُّ ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ ، وَثَلاثٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلاثٍ ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ مِنْ عِدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْخَبَرُ أُضْمِرَ فِيهِ كَلِمَةٌ وَهِيَ : لَوْ تَصَدَّقَ بِهَا ، يُرِيدُ بِقَوْلِهِ : فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ نَاقَتَيْنِ وَثَلاثٍ لَوْ تَصَدَّقَ بِهَا ، لأَنَّ فَضْلَ تَعَلُّمِ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَكْبَرُ مِنْ فَضْلِ نَاقَتَيْنِ ، وَثَلاثٍ وَعِدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ لَوْ تَصَدَّقَ بِهَا ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يُشَبِّهَ مَنْ تَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فِي الأَجْرِ بِمَنْ نَالَ بَعْضَ حُطَامِ الدُّنْيَا ، فَصَحَّ بِمَا وَصَفْتُ صِحَّةُ مَا ذَكَرْتُ .
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ہم اس وقت صفہ میں موجود تھے۔ آپ نے فرمایا: تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے، وہ بطحان یا عقیق جائے، اور روزانہ وہاں سے دو ایسی اونٹنیاں لے آیا کرے، جن کی کوہان بلند ہو، اور ان کی رنگت چمکدار ہو۔ وہ کسی گناہ اور کسی قطع رحمی کے بغیر انہیں حاصل کر لے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر ایک شخص اس بات کو پسند کرے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” کوئی شخص مسجد جائے، اور اللہ کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرے۔ یہ اس کے لئے دو اونٹنیوں سے زیادہ بہتر ہے، اور تین (آیات کا علم حاصل کرنا) تین اونٹنیاں حاصل کرنے سے زیادہ بہتر ہے، اور چار (آیات کا علم حاصل کرنا) ان کی تعداد کے جتنے اونٹ حاصل کرنے سے بہتر ہے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت میں ایک کلمہ پوشیدہ (یعنی محذوف) ہے اور وہ یہ ہے: ” اگر وہ اسے صدقہ کر دے ۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے مراد یہ ہو گی: آدمی کا اللہ کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرنا اس کے لئے دو یا تین اونٹنیوں کو صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: اللہ کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرنا دو یا تین اونٹنیوں یا ان جتنے اونٹوں کو صدقہ کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرنے کے اجر کو دنیاوی سازو سامان کے حصول سے تشبیہ دیں۔ اس لئے میں نے جو وضاحت کی ہے: وہ درست ہو گی۔ جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 116
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَافِعًا لأَصْحَابِهِ ، وَعَلَيْكُمْ بِالزَّهْرَاوَيْنِ : الْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ ، فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ ، أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ ، أَوْ فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا ، وَعَلَيْكُمْ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ ، فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ ، وَلا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ " .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” قرآن کا علم حاصل کرو، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کے لئے شفاعت کرنے والا بن کے آئے گا اور تم لوگوں پر دو چمکدار چیزوں کو اختیار کرنا لازم ہے۔ سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران، کیونکہ یہ دونوں قیامت کے دن یوں آئیں گی، جیسے دو بادل ہیں، یا جیسے یہ دو سایہ دار چیزیں ہیں، یا جیسے یہ پرندوں کی دو قطاریں ہیں اور یہ اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں بحث کریں گی۔ (یعنی ان کی شفاعت کریں گی) تم لوگوں پر سورہ بقرہ پڑھنا لازم ہے۔ اسے اختیار کرنا برکت ہے، اور اسے ترک کر دینا حسرت ہے۔ اور باطل لوگ (یعنی جادوگر) اس کی استطاعت نہیں رکھتے ۔“