کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس بات کا ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ دین میں تکلف کو ترک کرے اور ان چیزوں سے دور رہے جنہیں بیان کرنے سے شریعت نے روکا ہے۔
حدیث نمبر: 110
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أبيه ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا ، مَنْ سَأَلَ عَنْ مَسْأَلَةٍ لَمْ تُحَرَّمْ ، فَحُرِّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ " .
عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” مسلمانوں میں سب سے بڑا جرم اس شخص کا ہے، جو کسی ایسی چیز کے بارے میں دریافت کرے، جسے حرام قرار نہ دیا گیا ہو، اور پھر اس شخص کے دریافت کرنے کی وجہ سے، اسے مسلمانوں کے لئے حرام قرار دے دیا جائے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب العلم / حدیث: 110
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3276): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري.