کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی چیز کے بارے میں سوال کرے حالانکہ وہ اسے جانتا ہے، بشرطے کہ اس کا مقصد تمسخر نہ ہو۔
حدیث نمبر: 109
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا ، وَلِي أَخٌ صَغِيرٌ يُكَنَّى أَبَا عُمَيْرٍ ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : " أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لایا کرتے تھے۔ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابوعمیر تھی۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، تو آپ نے دریافت کیا: ” اے ابوعمیر! تمہاری چڑیا کا کیا حال ہے؟ “