کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس خبر کا ذکر کہ طالبِ علم کے لیے استاد سے کسی مسئلے میں سوال یا اعتراض کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 108
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَعْمَلُ فِي شَيْءٍ نَأْتَنِفُهُ ، أَمْ فِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ؟ قَالَ : " بَلْ فِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " ، قَالَ : فَفِيمَ الْعَمَلُ ؟ قَالَ : " يَا عُمَرُ ، لا يُدْرَكُ ذَاكَ إِلا بِالْعَمَلِ " ، قَالَ : نَجْتَهِدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم جو عمل کرتے ہیں۔ کیا وہ پیدا ہوتا ہے؟ یا یہ کسی ایسی صورت میں ہے، جو پہلے سے طے ہو چکی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسی صورت میں ہے، جو پہلے سے طے ہو چکی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: پھر عمل کرنے کی وجہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمر! اس نتیجے تک) صرف عمل کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! پھر تو ہم اہتمام کے ساتھ عمل کریں گے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب العلم / حدیث: 108
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (165). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الشيخين غير هشام بن عمار فإنه من رجال البخاري وحده.