کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس خبر کا ذکر کہ عالم اپنے شاگردوں کو وہ مسائل خود بھی پیش کر سکتا ہے جنہیں وہ انہیں سکھانا چاہتا ہے۔
حدیث نمبر: 106
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ ، فَصَلَّى لَهُمْ صَلاةَ الظُّهْرِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَذَكَرَ السَّاعَةَ ، وَذَكَرَ أَنْ قَبْلُهَا أُمُورًا عِظَامًا ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَنِي عَنْ شَيْءٍ فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ ، فَوَاللَّهِ لا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلا حَدَّثْتُكُمْ بِهِ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي " ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ : " سَلُونِي سَلُونِي " ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ ، فَقَالَ : مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَبُوكَ حُذَافَةُ " ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ يَقُولَ : " سَلُونِي " بَرَكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالإِسْلامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولا ، قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ " .
ابن شہاب بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھل جانے کے بعد باہر تشریف لائے۔ آپ نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ منبر پر کھڑے ہو گئے۔ آپ نے قیامت کا تذکرہ کیا اور اس بات کا تذکرہ کیا کہ اس سے پہلے کچھ بڑے حیرت انگیز (واقعات رونما ہوں گے) آپ نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجھ سے کسی بھی چیز کے بارے میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہو، وہ مجھ سے اس بارے میں دریافت کرے۔ جب تک میں اس جگہ پر کھڑا ہوا ہوں۔ اللہ کی قسم! تم مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں دریافت کرو گے، میں تم لوگوں کو اس کے بارے میں بتا دوں گا۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سنی تو انہوں نے زیادہ رونا شروع کر دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت یہ کہنا شروع کیا: تم لوگ مجھ سے سوال کرو۔ تم لوگ مجھ سے سوال کرو، تو سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: تمہارا باپ حذافہ ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہ بات ارشاد فرماتے رہے کہ تم لوگ مجھ سے کچھ پوچھو، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہماللہ تعالیٰ کے پرورگار ہونے، اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی ہیں۔ (یعنی ان پر ایمان رکھتے ہیں) راوی کہتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ” اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ ابھی میرے سامنے اس دیوار پر جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا، تو میں نے آج کی طرح بھلائی اور برائی کو (ایک ساتھ) کبھی نہیں دیکھا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب العلم / حدیث: 106
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (916): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم