کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ عالم جب کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے تو کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد از خود جواب دے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 105
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى قِيَامُ السَّاعَةِ ؟ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلاةِ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ ، قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ سَاعَتِهِ ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ شَيْءٍ ، وَلا صَلاةٍ ، وَلا صِيَامٍ ، أَوْ قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ عَمَلٍ ، إِلا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " ، أَوْ قَالَ : " أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " قَالَ أَنَسٌ : فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ بَعْدَ الإِسْلامِ مِثْلَ فَرَحِهِمْ بِهَذَا .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا۔ قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں (یہاں) ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی: میں نے اس کے لئے کوئی بڑی تیاری تو نہیں کی، نہ تو نماز کے حوالے سے اور نہ ہی روزے کے حوالے سے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس نے عرض کی: میں نے کسی بڑے عمل کے حوالے سے تیاری نہیں کی ہے، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” آدمی قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہو گا، جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔“ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ” تم اس کے ساتھ ہو گے، جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اور کسی بات پر اتنا خوش ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، جتنا وہ اس بات پر خوش ہوئے تھے۔