کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس خبر کا ذکر کہ عالم کے لیے یہ جائز ہے کہ سوال کا جواب فوراً نہ دے بلکہ کچھ تاخیر کرے۔
حدیث نمبر: 104
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ ، جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَمَضَى صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : سَمِعَ مَا قَالَ ، وَكَرِهَ مَا قَالَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ لَمْ يَسْمَعْ ، حَتَّى قَضَى حَدِيثَهُ ، قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ؟ " قَالَ : هَا أَنَا ذَا ، قَالَ : " ضُيِّعَتِ الأَمَانَةُ ، فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ " ، قَالَ : فَمَا إِضَاعَتُهَا ؟ قَالَ : " إِذِ اشْتَدَّ الأَمْرُ ، فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔ ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے دریافت کیا: قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات جاری رکھی۔ حاضرین میں سے بعض حضرات نے یہ سمجھا کہ اس دیہاتی نے جو کہا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی ہے، اور آپ نے اس کے سوال کو پسند نہیں کیا۔ جبکہ بعض نے یہ سمجھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سنی ہی نہیں ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات مکمل کر لی تو آپ نے دریافت کیا: قیامت کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے عرض کی: میں یہاں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امانت کو ضائع کیا جائے، تو تم قیامت کا انتظار کرو۔ اس نے دریافت کیا: اس کو ضائع کرنے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب معاملہ شدید ہو جائے، تو تم قیامت کا انتظار کرو۔