کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس خبر کا ذکر کہ انسان کو سوال کا جواب کنایہ میں دینا جائز ہے، اگرچہ اس میں اس کی تعریف ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 101
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ غَنِيمَةً بِالْجِعِرَّانَةِ ، إِذْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ : اعْدِلْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا وَيْلِي ! لَقَدْ شَقِيتُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ " .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ” جعرانہ “ میں مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے۔ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں گزارش کی: آپ عدل سے کام لیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” ہائے افسوس! اگر میں عدل سے کام نہیں لوں گا، تو پھر تو میں برے نصیب والا ہو جاؤں گا ۔“