کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس بات کا ذکر کہ انسان کے لیے احادیث کو مسلسل بیان نہ کرنا مستحب ہے تاکہ تعظیم و توقیر میں کمی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 100
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَلا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيرَةَ ؟ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِكَ ، وَكُنْتُ أُسَبِّحُ ، فَقَامَ قَبْلُ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي ، وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : قَوْلُ عَائِشَةَ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ ، أَرَادَتْ بِهِ سَرْدَ الْحَدِيثِ لا الْحَدِيثَ نَفْسَهُ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کیا تم لوگوں کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر حیرت نہیں ہوتی ہے؟ وہ میرے حجرے کے ایک طرف آ کر بیٹھتے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ مجھے یہ بات سنا رہے ہوتے ہیں، حالانکہ میں اس وقت نوافل ادا کر رہی ہوتی ہوں اور میرے نوافل مکمل کرنے سے پہلے ہی وہ (احادیث بیان کر کے) اٹھ کے چلے بھی جاتے ہیں۔ اگر میری ان سے ملاقات ہوتی، تو میں انہیں ٹوکتی، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تیزی کے ساتھ بات چیت نہیں کرتے ہیں۔ جس طرح تم لوگ تیزی سے بات چیت کرتے ہو ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ ” میں انہیں ٹوکتی ۔“ اس سے مراد ان کے تیزی سے روایت بیان کرنے پر ٹوکنا ہے، محض روایت بیان کرنے پر ٹوکنا مراد نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب العلم / حدیث: 100
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (37): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.