کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے۔
حدیث نمبر: 99
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلْيَهُودِ : أَعْطُونَا شَيْئًا نَسْأَلُ عَنْهُ هَذَا الرَّجُلَ ، فَقَالُوا : سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ ، فَسَأَلُوهُ ، فَنَزَلَتْ : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 ، فقَالَوا : لَمْ نُؤْتَ مِنَ الْعِلْمِ نَحْنُ إِلا قَلِيلا ، وَقَدْ أُوتِينَا التَّوْرَاةَ ، وَمَنْ يُؤْتَ التَّوْرَاةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ؟ ! فَنَزَلَتْ : قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي سورة الكهف آية 109 .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قریش نے یہودیوں سے کہا: تم ہمیں کسی چیز کے بارے میں بتاؤ، جس کے بارے میں ہم ان صاحب (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں، تو ان لوگوں نے کہا: تم ان سے روح کے بارے میں دریافت کرو، قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: تو یہ آیت نازل ہوئی۔ لوگ تم سے روح کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، تم فرما دو! روح میرے پروردگار کے امر کا نتیجہ ہے، اور تم لوگوں کو تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ “ تو ان لوگوں نے کہا: کیا ہمیں تھوڑا سا علم دیا گیا ہے؟ جبکہ ہمیں تورات عطا کی گئی ہے، اور جس شخص کو تورات دی گئی ہو، اسے بہت زیادہ بھلائی عطا کر دی گئی، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: تم یہ فرما دو! اگر سمندر میرے پروردگار کے کلمات کے لئے سیاہی بن جائیں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب العلم / حدیث: 99
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - انظر التعليق. * [أَبُو يَعْلَى] قال الشيخ: في مسنده (4/ 380 - 381)، وإسناده حسن، رجاله ثقات رجال مسلم، غير مسروق ابن المَرْزُبان؛ وهو صدوق له أوهام؛ كما قال الحافظ. وقد توبع من قتيبة بن سعيد: نا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة: أخرجه الترمذي (3139) - وصححه -، والنسائي في «الكبرى» (11314)، وأحمد (1/ 555)، قال ثلاثتهم: أنا قتيبة بن سعيد؛ فصح السند؛ والحمد لله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، مسروق بن المرزبان: صدوق، له أوهام، وباقي رجاله على شرط مسلم، وابن أبي زائدة: هو يحيى بن زكريا ابن أبي زائدة.