کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ اعمش اس حدیث کو عبداللہ بن مرہ سے سننے میں اکیلے راوی نہیں تھے۔
حدیث نمبر: 98
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيَمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ ، فَمَرَّ بِنَفَرٍ مِنَ الْيَهُودِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : لَوْ سَأَلْتُمُوهُ ! فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لا تَسْأَلُوهُ فَيُسْمِعَكُمْ مَا تَكْرَهُونَ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، أَخْبِرْنَا عَنِ الرُّوحِ ، فَقَامَ سَاعَةً يَنْتَظِرُ الْوَحْيَ ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُوحَى عَلَيْهِ ، فَتَأَخَّرْتُ عَنْهُ حَتَّى صَعِدَ الْوَحْيُ ، ثُمَّ قَرَأَ : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيل سورة الإسراء آية 85 .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ کے ایک کھیت سے گزر رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ایک شاخ سے ٹیک لگا کر (چل رہے تھے) کچھ یہودی وہاں سے گزرے، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اگر تم ان سے کوئی سوال کرو (تو یہ مناسب ہو گا) تو ایک نے کہا: تم ان سے سوال نہ کرو، کیونکہ وہ تمہیں کوئی ایسا جواب بھی دے سکتے ہیں، جو تمہیں پسند نہ آئے۔ پھر ان لوگوں نے کہا: اے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ہمیں روح کے بارے میں بتائیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر تک کھڑے ہو کر وحی کا انتظار کرتے رہے۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ اس لئے میں آپ سے پیچھے ہٹ گیا۔ یہاں تک کہ جب وحی نازل ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی۔ ” لوگ تم سے روح کے بارے میں دریافت کرتے ہیں: تم فرما دو! روح میرے پروردگار کے امر کا نتیجہ ہے، اور تم لوگوں کو تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ “