کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس خبر کا ذکر کہ اگر عالم جانتا ہو کہ سننے والے دل اس علم کو برداشت نہیں کر سکتے تو اسے بعض علم کو چھپانا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 97
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَسِيبٍ ، إِذْ جَاءَتْهُ الْيَهُودُ ، فَسَأَلَتْهُ عَنِ الرُّوحِ ، فَنَزَلَتْ : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے ایک باغ میں ایک ٹہنی (تنے) کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ یہودی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے بارے میں دریافت کیا: تو یہ آیت نازل ہوئی: ” لوگ تم سے روح کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، تم فرما دو! روح میرے پروردگار کے امر کا نتیجہ ہے اور تم لوگوں کو بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب العلم / حدیث: 97
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين: ابن إدريس: هو عبد الله بن إدريس الأودي، وعبد الله بن مرة هو الهمداني الخارفي الكوفي، ومسروق: هو ابن الأجدع.