کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس وضاحت کا ذکر کہ علم ان بہترین چیزوں میں سے ہے جو انسان اپنے بعد چھوڑ کر جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 93
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ هُوَ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " خَيْرُ مَا يَخْلُفُ الرَّجُلَ بَعْدَهُ ثَلاثٌ : وَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ ، وَصَدَقَةٌ تَجْرِي يَبْلُغُهُ أَجْرُهَا ، وَعِلْمٌ يُنْتَفَعُ بِهِ مِنْ بَعْدَهِ " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : قَدْ بَقِيَ مِنْ هَذَا النوعِ أَكْثَرُ مِنْ مِائَةِ حَدِيثٍ بَدَّدْنَاهَا فِي سَائِرِ الأَنْوَاعِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ ، لأَنَّ تِلْكَ الْمَوَاضِعِ بِهَا أَشْبَهُ .
عبیداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” آدمی اپنے بعد جو چیزیں چھوڑ کر جاتا ہے، ان میں تین چیزیں سب سے بہتر ہیں، وہ نیک اولاد، جو اس کے لئے دعا کرتی رہے۔ وہ صدقہ جاریہ، جس کا اجر اس تک پہنچتا رہے، اور وہ علم جس کے ذریعے اس شخص (کے مرنے) کے بعد بھی نفع حاصل کیا جا سکے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس نوع میں سے ایک سو احادیث باقی ہیں، جنہیں ہم نے اس کتاب کی مختلف انواع (یعنی ابواب) میں ذکر کیا ہے، کیونکہ وہ مقام (ان احادیث کے مضمون) سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب العلم / حدیث: 93
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «أحكام الجنائز» (224) «التعليق الرغيب» (1/ 58) «الروض» (1013). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، إسماعيل بن عبيد بن أبي كريمة: ثقة. وباقي السند على شرط الصحيح. محمد بن سلمة: هو ابن عبد الله الباهلي مولاهم الحراني، وأبو عبد الرحيم: خالد بن أبي يزيد بن سماك بن رستم الأموي مولاهم الحراني.