کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ اگر مشرکین میں سے بہترین لوگ اسلام قبول کریں اور دین کو سمجھیں تو وہ اسلام میں بھی بہترین بن جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 92
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " النَّاسُ مَعَادِنُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلامِ ، فَقُهُوا " .
سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” لوگ بھلائی یا برائی کی کان (یعنی معدن) ہوتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں جو لوگ ان میں بہتر تھے، وہ اسلام میں بھی بہتر شمار ہوں گے، جبکہ وہ (دین کی سمجھ بوجھ) حاصل کر لیں۔ “