کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس علم کی صفت کا ذکر جس کی وجہ سے بعض لوگ قیامت کے دن جہنم میں داخل ہوں گے۔
حدیث نمبر: 77
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَرْوَزِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِتُبَاهُوا بِهِ الْعُلَمَاءَ ، وَلا تُمَارُوا بِهِ السُّفهَاءَ ، وَلا تَخَيَّرُوا بِهِ الْمَجَالِسَ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَالنَّارَ النَّارَ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
” تم علم اس لئے حاصل نہ کرو، تاکہ اس کی وجہ سے علماء کے سامنے فخر کا اظہار کرو، اور تم لوگ اس کے ذریعے بے وقوفوں کے ساتھ بحث کرو، اور اس کے ذریعے خود کو محفل میں نمایاں کرنے کی کوشش کرو، جو شخص ایسا کرے گا (تو اس کا انجام) جہنم ہے ۔“
” تم علم اس لئے حاصل نہ کرو، تاکہ اس کی وجہ سے علماء کے سامنے فخر کا اظہار کرو، اور تم لوگ اس کے ذریعے بے وقوفوں کے ساتھ بحث کرو، اور اس کے ذریعے خود کو محفل میں نمایاں کرنے کی کوشش کرو، جو شخص ایسا کرے گا (تو اس کا انجام) جہنم ہے ۔“
حدیث نمبر: 78
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْخُزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ ، لا يَتَعَلَّمُهُ إِلا لَيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا ، لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . وَأَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
” جو شخص کوئی ایسا علم حاصل کرتا ہے، جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن وہ شخص اسے کسی دنیاوی فائدے کے لئے حاصل کرتا ہے، تو وہ شخص قیامت کے دن جنت کی خوشبو کو بھی نہیں پا سکے گا۔ “
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
” جو شخص کوئی ایسا علم حاصل کرتا ہے، جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن وہ شخص اسے کسی دنیاوی فائدے کے لئے حاصل کرتا ہے، تو وہ شخص قیامت کے دن جنت کی خوشبو کو بھی نہیں پا سکے گا۔ “
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 79
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، وَهَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ شَرِيكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدْرِ ، وَلا تُفَاتِحُوهُمْ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:
” قدریہ فرقے سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور انہیں پہلے مخاطب نہ کرو۔ “
” قدریہ فرقے سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور انہیں پہلے مخاطب نہ کرو۔ “