کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس علت (وجہ) کا ذکر جس کی بنا پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «وما جهلتم منه فردوه إلى عالمه» یعنی جو چیز نہ سمجھ سکو اسے اہلِ علم کے سپرد کرو۔
حدیث نمبر: 75
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، لِكُلِّ آيَةٍ مِنْهَا ظَهْرٌ وَبَطْنٌ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
” قرآن کو سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔ ہر آیت کا ایک ظاہری مفہوم ہے، اور ایک باطنی مفہوم ہے۔ “
«ذِكْرُ الزَّجْرِ عَنْ مُجَادَلَةِ النَّاسِ فِي كِتَابِ اللهِ مَعَ الْأَمْرِ بِمُجَانَبَةِ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ» اس بات کی ممانعت کا تذکرہ کہ لوگاللہ تعالیٰ کی کتاب کے بارے میں بحث مباحثہ کریں اور جو شخص ایسا کرتا ہے، اس سے لاتعلق رہنے کا حکم ہونا۔
” قرآن کو سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔ ہر آیت کا ایک ظاہری مفہوم ہے، اور ایک باطنی مفہوم ہے۔ “
«ذِكْرُ الزَّجْرِ عَنْ مُجَادَلَةِ النَّاسِ فِي كِتَابِ اللهِ مَعَ الْأَمْرِ بِمُجَانَبَةِ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ» اس بات کی ممانعت کا تذکرہ کہ لوگاللہ تعالیٰ کی کتاب کے بارے میں بحث مباحثہ کریں اور جو شخص ایسا کرتا ہے، اس سے لاتعلق رہنے کا حکم ہونا۔