کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس ممانعت کا بیان کہ کوئی شخص صرف لکھنے پر اکتفا نہ کرے تاکہ وہ سنن کو یاد کرنے سے غافل نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 64
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُمَامٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَكْتُبُوا عَنِّي إِلا الْقُرْآنَ ، فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا فَلْيَمْحُهُ " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : زَجْرُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكِتْبَةِ عَنْهُ سِوَى الْقُرْآنِ ، أَرَادَ بِهِ الْحَثَّ عَلَى حِفْظِ السُّنَنِ دُونَ الاتِّكَالِ عَلَى كِتْبَتِهَا وَتَرْكِ حِفْظِهَا وَالتَّفَقُّهِ فِيهَا ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا إِبَاحَتُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي شَاهٍ كَتْبَ الْخُطْبَةِ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِذْنُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بِالْكِتْبَةِ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
” میرے حوالے سے صرف قرآن کو نوٹ کیا کرو۔ جس شخص نے میری کوئی بات نوٹ کی ہو، وہ اسے مٹا دے ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن کے علاوہ کسی بھی چیز کو نوٹ کرنے سے منع کرنا، اس سے مراد یہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم احادیث کو یاد رکھنے کی ترغیب دیں، ایسا نہ ہو کہ احادیث نوٹ کر لیں اور انہیں یاد نہ کریں اور ان میں غور و فکر نہ کریں۔
اس موقف کے درست ہونے کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوشاہ یمنی کو حجتہ الوداع کا خطبہ نوٹ کرنے کی اجازت دی تھی، جو خطبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا تھا۔
اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو بھی احادیث نوٹ کرنے کی اجازت دی تھی۔
” میرے حوالے سے صرف قرآن کو نوٹ کیا کرو۔ جس شخص نے میری کوئی بات نوٹ کی ہو، وہ اسے مٹا دے ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن کے علاوہ کسی بھی چیز کو نوٹ کرنے سے منع کرنا، اس سے مراد یہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم احادیث کو یاد رکھنے کی ترغیب دیں، ایسا نہ ہو کہ احادیث نوٹ کر لیں اور انہیں یاد نہ کریں اور ان میں غور و فکر نہ کریں۔
اس موقف کے درست ہونے کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوشاہ یمنی کو حجتہ الوداع کا خطبہ نوٹ کرنے کی اجازت دی تھی، جو خطبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا تھا۔
اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو بھی احادیث نوٹ کرنے کی اجازت دی تھی۔
حدیث نمبر: 65
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالأُبُلَّةِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " تَرَكَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا طَائِرٌ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلا عِنْدَنَا مِنْهُ عِلْمٌ " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَى " عِنْدَنَا مِنْهُ " يَعْنِي بِأَوَامِرِهِ وَنَوَاهِيَهِ ، وَأَخْبَارِهِ ، وَأَفْعَالِهِ ، وَإِبَاحَاتِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
” جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے رخصت ہوئے، تو پروں کے ساتھ اڑنے والے ہر پرندے، کے بارے میں بھی ہمارے پاس کوئی نہ کوئی علم تھا ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ ” کے بارے میں بھی ہمارے پاس کوئی نہ کوئی علم تھا “ سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامر، نواہی، اطلاعات، افعال اور مباح قرار دینے کے حوالے سے (ہمیں علم مل چکا تھا)۔
” جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے رخصت ہوئے، تو پروں کے ساتھ اڑنے والے ہر پرندے، کے بارے میں بھی ہمارے پاس کوئی نہ کوئی علم تھا ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ ” کے بارے میں بھی ہمارے پاس کوئی نہ کوئی علم تھا “ سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامر، نواہی، اطلاعات، افعال اور مباح قرار دینے کے حوالے سے (ہمیں علم مل چکا تھا)۔