کتب حدیث › صحیح ابن حبان › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — صحیح ابن حبان ذكر إثبات النصرة لأصحاب الحديث إلى قيام الساعة- باب: - اصحابِ حدیث کی قیامت تک مدد و نصرت ثابت ہونے کا بیان۔ حدیث 61–61 ذكر الإخبار عن سماع المسلمين السنن خلف عن سلف- باب: - مسلمانوں کے سنت کو ایک نسل سے دوسری نسل میں سن کر منتقل کرنے کا ذکر۔ حدیث 62–62 ذكر الإخبار عما يستحب للمرء كثرة سماع العلم ثم الاقتفاء والتسليم- باب: - اس خبر کا ذکر جس میں اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ انسان کو کثرت سے علم سننا، اس کی پیروی کرنا اور اسے تسلیم کرنا پسندیدہ ہے۔ حدیث 63–63 باب الزجر عن كتبة المرء السنن مخافة أن يتكل عليها دون الحفظ لها- باب: - اس ممانعت کا بیان کہ کوئی شخص صرف لکھنے پر اکتفا نہ کرے تاکہ وہ سنن کو یاد کرنے سے غافل نہ ہو جائے۔ حدیث 64–65 ذكر دعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم لمن أدى من أمته حديثا سمعه- باب: - نبی کریم ﷺ کی دعا کا ذکر ان لوگوں کے لیے جنہوں نے آپ ﷺ سے کوئی حدیث سنی اور اسے امت تک پہنچایا۔ حدیث 66–66 ذكر رحمة الله جل وعلا من بلغ أمة المصطفى صلى الله عليه وسلم حديثا صحيحا عنه- باب: - اس رحمتِ الٰہی کا ذکر جو اس شخص پر ہوتی ہے جو نبی کریم ﷺ کی صحیح حدیث آپ ﷺ کی امت تک پہنچاتا ہے۔ حدیث 67–67 ذكر البيان بأن هذا الفضل إنما يكون لمن أدى ما وصفنا كما سمعه سواء من غير تغيير ولا تبديل فيه- باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ یہ فضیلت اسی شخص کے لیے ہے جو سنی ہوئی حدیث کو بغیر کسی تبدیلی یا تحریف کے اسی طرح آگے پہنچائے جیسی وہ سنی تھی۔ حدیث 68–68 ذكر إثبات نضارة الوجه في القيامة من بلغ للمصطفى صلى الله عليه وسلم سنة صحيحة كما سمعها- باب: - قیامت کے دن اس شخص کے چہرے کے روشن ہونے کا ذکر جو نبی کریم ﷺ کی صحیح سنت کو جیسے سنا ویسے ہی آگے پہنچائے۔ حدیث 69–69 ذكر عدد الأشياء التي استأثر الله تعالى بعلمها دون خلقه- باب: - ان چیزوں کی تعداد کا ذکر جن کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس خاص رکھا ہے اور مخلوق پر ظاہر نہیں کیا۔ حدیث 70–70 ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه- باب: - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ موقف کی صحت پر صراحت کرتی ہے۔ حدیث 71–71 ذكر الزجر عن العلم بأمر الدنيا مع الانهماك فيها والجهل بأمر الآخرة ومجانبة أسبابها- باب: - اس ممانعت کا ذکر کہ دنیا کے امور کے علم میں ڈوب جانا اور آخرت کے علم سے جاہل رہنا اور اس کے اسباب سے دور رہنا منع ہے۔ حدیث 72–72 ذكر الزجر عن تتبع المتشابه من القرآن للمرء المسلم- باب: - اس ممانعت کا ذکر کہ مسلمان شخص کو قرآن کے متشابہات کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔ حدیث 73–74 ذكر العلة التي من أجلها قال النبي صلى الله عليه وسلم وما جهلتم منه فردوه إلى عالمه- باب: - اس علت (وجہ) کا ذکر جس کی بنا پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «وما جهلتم منه فردوه إلى عالمه» یعنی جو چیز نہ سمجھ سکو اسے اہلِ علم کے سپرد کرو۔ حدیث 75–75 ذكر الزجر عن مجادلة الناس في كتاب الله مع الأمر بمجانبة من يفعل ذلك- باب: - لوگوں سے کتاب اللہ میں جھگڑنے کی ممانعت اور ان لوگوں سے دور رہنے کے حکم کا ذکر جو ایسا کرتے ہیں۔ حدیث 76–76 ذكر وصف العلم الذي يتوقع دخول النار في القيامة لمن طلبه- باب: - اس علم کی صفت کا ذکر جس کی وجہ سے بعض لوگ قیامت کے دن جہنم میں داخل ہوں گے۔ حدیث 77–79 ذكر الزجر عن مجالسة أهل الكلام والقدر ومفاتحتهم بالنظر والجدال- باب: - اس ممانعت کا ذکر کہ اہلِ کلام و قدریہ کے ساتھ بیٹھنا، ان سے مناظرے اور بحث و جدال میں پڑنا منع ہے۔ حدیث 80–80 ذكر ما كان يتخوف صلى الله عليه وسلم على أمته جدال المنافق- باب: - اس خوف کا ذکر جو نبی کریم ﷺ کو اپنی امت کے بارے میں تھا کہ کہیں وہ منافقین کے ساتھ جھگڑوں میں نہ پڑ جائیں۔ حدیث 81–81 ذكر ما يجب على المرء أن يسأل الله جل وعلا العلم النافع رزقنا الله إياه وكل مسلم- باب: - اس بات کا ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ اللہ جل و علا سے نافع علم کا سوال کرے، اللہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو یہ علم عطا فرمائے۔ حدیث 82–82 ذكر ما يستحب للمرء أن يقرن إلى ما ذكرنا في التعوذ منها أشياء معلومة- باب: - اس بات کا ذکر کہ مذکورہ تعوذ (پناہ کی دعا) کے ساتھ کچھ اور معلوم دعائیں بھی شامل کرنا مستحب ہے۔ حدیث 83–83 ذكر تسهيل الله جل وعلا طريق الجنة على من يسلك في الدنيا طريقا يطلب فيه علما- باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ جو شخص دنیا میں علم حاصل کرنے کے راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔ حدیث 84–84 ذكر بسط الملائكة أجنحتها لطلبة العلم رضا بصنيعهم ذلك- باب: - فرشتوں کے علم کے طلبہ پر خوش ہو کر اپنے پر بچھانے کا ذکر۔ حدیث 85–85 ذكر أمان الله جل وعلا من النار من أوى إلى مجلس علم ونيته فيه صحيحة- باب: - اس بات کا ذکر کہ جو شخص اخلاص کے ساتھ کسی مجلسِ علم میں بیٹھتا ہے، اللہ جل و علا اسے جہنم سے امان عطا فرماتا ہے۔ حدیث 86–86 ذكر التسوية بين طالب العلم ومعلمه وبين المجاهد في سبيل الله- باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ طالبِ علم، معلمِ علم اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا اجر برابر ہے۔ حدیث 87–87 ذكر وصف العلماء الذين لهم الفضل الذي ذكرنا قبل- باب: - ان علما کی صفات کا ذکر جنہیں وہ فضیلت حاصل ہے جس کا پہلے ذکر کیا گیا۔ حدیث 88–88 ذكر إرادة الله جل وعلا خير الدارين بمن تفقه في الدين- باب: - اس بات کا ذکر کہ جسے اللہ تعالیٰ دین میں سمجھ عطا فرما دے، اللہ اس کے لیے دنیا و آخرت دونوں میں بھلائی چاہتا ہے۔ حدیث 89–89 ذكر إباحة الحسد لمن أوتي الحكمة وعلمها الناس- باب: - اس بات کا ذکر کہ جس شخص کو حکمت و علم عطا کیا گیا ہو اور وہ اسے لوگوں کو سکھاتا ہو، اس پر رشک کرنا جائز ہے۔ حدیث 90–90 ذكر البيان بأن من خيار الناس من حسن خلقه في فقهه- باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ بہترین لوگوں میں سے وہ ہیں جن کا اخلاق اچھا ہو اور وہ دین کی گہری سمجھ رکھتے ہوں۔ حدیث 91–91 ذكر البيان بأن خيار المشركين هم الخيار في الإسلام إذا فقهوا- باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ اگر مشرکین میں سے بہترین لوگ اسلام قبول کریں اور دین کو سمجھیں تو وہ اسلام میں بھی بہترین بن جاتے ہیں۔ حدیث 92–92 ذكر البيان بأن العلم من خير ما يخلف المرء بعده- باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ علم ان بہترین چیزوں میں سے ہے جو انسان اپنے بعد چھوڑ کر جاتا ہے۔ حدیث 93–93 ذكر الأمر بإقالة زلات أهل العلم والدين- باب: - اہلِ علم اور اہلِ دین کی لغزشوں کو معاف کرنے کے حکم کا ذکر۔ حدیث 94–94 ذكر إيجاب العقوبة في القيامة على الكاتم العلم الذي يحتاج إليه في أمور المسلمين- باب: - اس بات کا ذکر کہ جو شخص ایسا علم چھپاتا ہے جس کی مسلمانوں کو ضرورت ہو، اسے قیامت کے دن سزا دی جائے گی۔ حدیث 95–95 ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه باب: ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے۔ حدیث 96–96 ذكر الخبر الدال على إباحة كتمان العالم بعض ما يعلم من العلم إذا علم أن قلوب المستمعين له لا تحتمله- باب: - اس خبر کا ذکر کہ اگر عالم جانتا ہو کہ سننے والے دل اس علم کو برداشت نہیں کر سکتے تو اسے بعض علم کو چھپانا جائز ہے۔ حدیث 97–97 ذكر البيان بأن الأعمش لم يكن بالمنفرد في سماع هذا الخبر من عبد الله بن مرة دون غيره- باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ اعمش اس حدیث کو عبداللہ بن مرہ سے سننے میں اکیلے راوی نہیں تھے۔ حدیث 98–98 ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه باب: ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے۔ حدیث 99–99 ذكر ما يستحب للمرء من ترك سرد الأحاديث حذر قلة التعظيم والتوقير لها- باب: - اس بات کا ذکر کہ انسان کے لیے احادیث کو مسلسل بیان نہ کرنا مستحب ہے تاکہ تعظیم و توقیر میں کمی نہ ہو۔ حدیث 100–100 ذكر الإخبار عن إباحة جواب المرء بالكناية عما يسأل وإن كان في تلك الحالة مدحه- باب: - اس خبر کا ذکر کہ انسان کو سوال کا جواب کنایہ میں دینا جائز ہے، اگرچہ اس میں اس کی تعریف ہی کیوں نہ ہو۔ حدیث 101–101 ذكر الخبر الدال على أن العالم عليه ترك التصلف بعلمه ولزوم الافتقار إلى الله جل وعلا في كل حاله- باب: - اس خبر کا ذکر کہ عالم پر لازم ہے کہ اپنے علم پر فخر و غرور نہ کرے بلکہ ہر حال میں اللہ جل و علا کا محتاج و نیاز مند بن کر رہے۔ حدیث 102–102 ذكر الخبر الدال على إباحة إجابة العالم السائل بالأجوبة على سبيل التشبيه والمقايسة دون الفصل في القصة- باب: - اس خبر کا ذکر کہ عالم کے لیے جائز ہے کہ سائل کو مثال اور قیاس کے انداز میں جواب دے بغیر قصہ کو تفصیل سے بیان کیے۔ حدیث 103–103 ذكر الخبر الدال على إباحة إعفاء المسؤول عن العلم عن إجابة السائل على الفور- باب: - اس خبر کا ذکر کہ عالم کے لیے یہ جائز ہے کہ سوال کا جواب فوراً نہ دے بلکہ کچھ تاخیر کرے۔ حدیث 104–104 ذكر الإباحة للعالم إذا سئل عن الشيء أن يغضي عن الإجابة مدة ثم يجيب ابتداء منه- باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ عالم جب کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے تو کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد از خود جواب دے سکتا ہے۔ حدیث 105–105 ذكر الخبر الدال على إباحة إلقاء العالم على تلاميذه المسائل التي يريد أن يعلمهم إياها- باب: - اس خبر کا ذکر کہ عالم اپنے شاگردوں کو وہ مسائل خود بھی پیش کر سکتا ہے جنہیں وہ انہیں سکھانا چاہتا ہے۔ حدیث 106–106 ذكر الخبر الدال على أن المصطفى صلى الله عليه وسلم قد كان يعرض له الأحوال في بعض الأحايين- باب: - اس خبر کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ پر بعض اوقات کچھ مخصوص حالتیں طاری ہو جاتی تھیں۔ حدیث 107–107 ذكر الخبر الدال على إباحة اعتراض المتعلم على العالم فيما يعلمه من العلم- باب: - اس خبر کا ذکر کہ طالبِ علم کے لیے استاد سے کسی مسئلے میں سوال یا اعتراض کرنا جائز ہے۔ حدیث 108–108 ذكر الإباحة للمرء أن يسأل عن الشيء وهو خبير به من غير أن يكون ذاك به استهزاء- باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی چیز کے بارے میں سوال کرے حالانکہ وہ اسے جانتا ہے، بشرطے کہ اس کا مقصد تمسخر نہ ہو۔ حدیث 109–109 ذكر الإخبار عما يجب على المرء من ترك التكلف في دين الله بما تنكب عنه وأغضي عن إبدائه- باب: - اس بات کا ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ دین میں تکلف کو ترک کرے اور ان چیزوں سے دور رہے جنہیں بیان کرنے سے شریعت نے روکا ہے۔ حدیث 110–110 ذكر الخبر الدال على إباحة إظهار المرء بعض ما يحسن من العلم إذا صحت نيته في إظهاره- باب: - اس خبر کا ذکر کہ اگر نیت درست ہو تو انسان کے لیے اپنے علم میں سے کچھ ظاہر کرنا جائز ہے۔ حدیث 111–111 ذكر الحكم فيمن دعا إلى هدى أو ضلالة فاتبع عليه- باب: - ہدایت یا گمراہی کی طرف بلانے والے اور اس کی پیروی کرنے والوں کے بارے میں حکم۔ حدیث 112–112 ذكر البيان بأن على العالم أن لا يقنط عباد الله عن رحمة الله- باب: - اس بیان کا ذکر کہ عالم پر لازم ہے کہ وہ بندوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرے۔ حدیث 113–113 ذكر إباحة تأليف العالم كتب الله جل وعلا- باب: - اس بات کا ذکر کہ عالم کے لیے اللہ عزوجل کی کتابوں کی تصنیف و تالیف جائز ہے۔ حدیث 114–114 ذكر الحث على تعليم كتاب الله وإن لم يتعلم الإنسان بالتمام- باب: - قرآنِ کریم کو سکھانے پر ترغیب کا ذکر اگرچہ انسان نے اسے مکمل نہ سیکھا ہو۔ حدیث 115–116 ذكر الإخبار عما يجب على المرء من تعلم كتاب الله جل وعلا واتباع ما فيه عند وقوع الفتن خاصة- باب: - فتنوں کے زمانے میں خصوصاً قرآن سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کی ذمہ داری کا بیان۔ حدیث 117–117 ذكر البيان بأن من خير الناس من تعلم القرآن وعلمه- باب: - اس بیان کا ذکر کہ لوگوں میں بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ۔ حدیث 118–118 ذكر الأمر باقتناء القرآن مع تعليمه- باب: - قرآن کو حاصل کرنے اور سکھانے کے حکم کا ذکر۔ حدیث 119–119 ذكر الزجر عن أن لا يستغني المرء بما أوتي من كتاب الله جل وعلا- باب: - اس بات پر وعید کا ذکر کہ کوئی شخص قرآن سے بے نیازی اختیار نہ کرے۔ حدیث 120–120 ذكر وصف من أعطي القرآن والإيمان أو أعطي أحدهما دون الآخر- باب: - اس شخص کی صفت کا بیان جسے قرآن و ایمان دونوں دیے گئے ہوں یا صرف ایک۔ حدیث 121–121 ذكر نفي الضلال عن الآخذ بالقرآن- باب: - قرآن کو تھامنے والے کے لیے گمراہی کے نہ ہونے کا بیان۔ حدیث 122–122 ذكر إثبات الهدى لمن اتبع القرآن والضلالة لمن تركه- باب: - قرآن کی پیروی کرنے والے کے لیے ہدایت اور اسے چھوڑنے والے کے لیے گمراہی کے ثبوت کا بیان۔ حدیث 123–123 ذكر البيان بأن القرآن من جعله إمامه بالعمل قاده إلى الجنة ومن جعله وراء ظهره بترك العمل ساقه إلى النار- باب: - بیان کہ جس نے قرآن کو اپنا امام بنا کر اس پر عمل کیا وہ جنت کی طرف رہنمائی پائے گا، اور جس نے اسے پیچھے ڈال دیا وہ جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ حدیث 124–124 ذكر إباحة الحسد لمن أوتي كتاب الله تعالى فقام به آناء الليل والنهار- باب: - اس شخص پر رشک جائز ہونے کا بیان جسے اللہ کی کتاب دی گئی اور وہ رات دن اس کے ساتھ قیام کرتا ہے۔ حدیث 125–125 ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فهو ينفق منه آناء الليل وآناء النهار أراد به فهو يتصدق به- باب: - بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «فهو ينفق منه آناء الليل وآناء النهار» کا مطلب ہے کہ وہ اس میں سے صدقہ کرتا ہے۔ حدیث 126–126 ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الخلفاء الراشدين والكبار من الصحابة غير جائز أن يخفى عليهم بعض أحكام الوضوء والصلاة- باب: - اس خبر کا ذکر جو اس گمان کو باطل کرتا ہے کہ خلفائے راشدین اور بڑے صحابہ پر وضو اور نماز کے بعض احکام مخفی نہیں رہ سکتے۔ حدیث 127–127 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯