کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس بیان کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ آیات کے نزول کے وقت صحابہ کو قرآن لکھنے کا حکم فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 43
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمُؤَذِّنُ ، حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : مَا حَمَلَكُمْ عَلَى أَنْ قَرَنْتُمْ بَيْنَ الأَنْفَالِ وَبَرَاءَةَ ، وَبَرَاءَةُ مِنَ الْمِئِينَ ، وَالأَنْفَالُ مِنَ الْمَثَانِي ، فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ : كَانَ نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ الآيَةُ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ مَنْ يَكْتُبُ ، فَيَقُولُ لَهُ : ضَعْهُ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا ، وَأُنْزِلَتِ الأَنْفَالُ بِالْمَدِينَةِ ، وَبَرَاءَةُ بِالْمَدِينَةِ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يُخْبِرْنَا أَيْنَ نَضَعُهَا ، فَوَجَدْتُ قِصَّتَهَا شَبِيهًا بِقِصَّةِ الأَنْفَالِ ، فَقَرَنْتُ بَيْنَهُمَا ، وَلَمْ نَكْتُبْ بَيْنَهُمَا سَطْرَ " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " ، فَوَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطُّوَلِ .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے کس وجہ سے سورہ انفال اور سورہ توبہ کو ایک ساتھ ملا دیا ہے؟ حالانکہ سورہ توبہ دو سو آیات والی سورت ہے، اور سورہ انفال مثانی میں سے ہے۔ آپ نے دونوں کو ملا دیا؟ تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب بھی قرآن کی کوئی آیت نازل ہوتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی لکھنے والے کو بلا لیتے تھے اور پھر آپ ان سے یہ فرماتے تھے، تم ان کو اس سورت میں شامل کر دو، جس میں فلاں چیز کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ تو سورہ انفال بھی مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اور سورہ تو یہ بھی مدینہ منورہ میں نزول کے اعتبار سے آخری زمانے میں نازل ہوئی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو آپ نے یہ نہیں بتایا تھا کہ ہم انہیں کہاں رکھیں، تو میں نے یہ بابت پائی کہ اس کا واقعہ سورہ انفال کے واقعہ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ اس لئے میں نے ان دونوں کو ملا دیا ہے، اور ہم نے ان دونوں کے درمیان ” «بسم اللہ الرحمن» کی سطر نہیں لکھی ہے۔ میں نے انہیں سات طویل سورتوں میں شامل کر دیا ہے۔