باب -
حدیث 33–33
باب: - اس خبر کا ذکر جو ایسے شخص کے وہم کو دور کرتا ہے جو فنِ حدیث کا ماہر نہیں اور اسے گمان ہوا کہ یہ خبر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مخالف ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
حدیث 34–34
باب: - اس قدر (مدت) کا ذکر جس میں نبی کریم ﷺ پر غارِ حرا میں وحی کے نزول کے وقت قیام رہا۔
حدیث 35–35
باب: - اس حالت کا ذکر جب فرشتوں کا نزول نبی کریم ﷺ پر وحی کے وقت ہوتا تھا۔
حدیث 36–36
باب: - آسمانوں کے رہنے والوں (ملائکہ) کی کیفیت کا ذکر جب وحی نازل ہوتی تھی۔
حدیث 37–37
باب: - وحی کے رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے کے انداز اور کیفیت کا بیان۔
حدیث 38–38
باب: - اس حالت کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ وحی کے نزول کے وقت کس طرح جلدی سے وحی کو یاد کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔
حدیث 39–39
باب: - ذکر اس خبر کا جو اس قول کو باطل قرار دیتی ہے جس نے یہ گمان کیا کہ اللہ جل وعلا نے کوئی آیت نازل نہیں فرمائی مگر مکمل صورت میں
حدیث 40–41
باب: - اس خبر کا ذکر جو ان لوگوں کے قول کو رد کرتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ابواسحاق السبیعی نے یہ حدیث براء رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی۔
حدیث 42–42
باب: - اس بیان کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ آیات کے نزول کے وقت صحابہ کو قرآن لکھنے کا حکم فرمایا کرتے تھے۔
حدیث 43–43
باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ اللہ کے برگزیدہ ﷺ پر وحی کا سلسلہ آپ ﷺ کی وفات تک منقطع نہیں ہوا، یہاں تک کہ اللہ نے آپ ﷺ کو اپنی جنت میں منتقل فرما دیا۔
حدیث 44–44
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔