کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس خبر کا ذکر جو ان لوگوں کے قول کو رد کرتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ابواسحاق السبیعی نے یہ حدیث براء رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی۔
حدیث نمبر: 42
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَجَاءَ بِكَتِفٍ فَكَتَبَهَا فِيهِ ، فَشَكَا ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ضَرَارَتَهُ ، فَنَزَلَتْ : غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ” اہل ایمان میں سے بیٹھے ہوئے لوگ برابر نہیں ہیں“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو بلوایا۔ وہ کندھے (کی ہڈی) لے کر آئے اور انہوں نے اس پر یہ آیت تحریر کر دی۔ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو یہ آیت نازل ہوئی: ” جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو ۔“