کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - آسمانوں کے رہنے والوں (ملائکہ) کی کیفیت کا ذکر جب وحی نازل ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 37
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِشْكَابٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ تَكَلَّمَ بِالْوَحْيِ سَمِعَ أَهْلُ السَّمَاءِ لِلسَّمَاءِ صَلْصَلَةً كَجَرِّ السِّلْسِلَةِ عَلَى الصَّفَا ، فَيُصْعَقُونَ ، فَلا يَزَالُونَ كَذَلِكَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ جِبْرِيلُ فَجَاءَهُمْ فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ ، فَيَقُولُونَ : يَا جِبْرِيلُ مَاذَا قَالَ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : الْحَقَّ ، فَيُنَادُونَ : الْحَقَّ الْحَقَّ " .
سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
جباللہ تعالیٰ کسی وحی کے بارے میں کلام کرتا ہے، تو آسمان پر رہنے والے دوسرے آسمان کے رہنے والوں سے اس بات کو یوں سنتے ہیں، جس طرح گھنٹی کی آواز ہوتی ہے۔ جیسے کسی زنجیر کو پتھر پر مارا جاتا ہے۔ پھر وہ بے ہوش ہو جاتے ہیں، پھر ان کی یہی کیفیت رہتی ہے۔ یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آتے ہیں، جب وہ ان کے پاس آتے ہیں، تو ان کے دلوں سے گھبراہٹ کم ہوتی ہے، تو وہ کہتے ہیں: اے جبرائیل علیہ السلام تمہارے رب نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں: حق فرمایا ہے، تو وہ فرشتے بھی یہ کہتے ہیں: حق فرمایا ہے، حق فرمایا ہے۔
جباللہ تعالیٰ کسی وحی کے بارے میں کلام کرتا ہے، تو آسمان پر رہنے والے دوسرے آسمان کے رہنے والوں سے اس بات کو یوں سنتے ہیں، جس طرح گھنٹی کی آواز ہوتی ہے۔ جیسے کسی زنجیر کو پتھر پر مارا جاتا ہے۔ پھر وہ بے ہوش ہو جاتے ہیں، پھر ان کی یہی کیفیت رہتی ہے۔ یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آتے ہیں، جب وہ ان کے پاس آتے ہیں، تو ان کے دلوں سے گھبراہٹ کم ہوتی ہے، تو وہ کہتے ہیں: اے جبرائیل علیہ السلام تمہارے رب نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں: حق فرمایا ہے، تو وہ فرشتے بھی یہ کہتے ہیں: حق فرمایا ہے، حق فرمایا ہے۔