صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأدعية - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن المرء إذا كان في حالة ليس له سؤال الرب جل وعلا الحلول من تلك الحالة لأن هذا كلام محال باب: دعاؤں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ اگر آدمی کسی ایسی حالت میں ہو تو اسے اپنے رب جل وعلا سے اس حالت کے حل کی دعا نہیں مانگنی چاہیے، کیونکہ یہ بات ناممکن ہے
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: «حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ ، وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ ، وَاذْكُرْ بِالتَّسْدِيدِ تَسْدِيدَ السَّهْمِ " . " وَنَهَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَسِّيِّ ، وَالْمِيثَرَةِ ، وَعَنِ الْخَاتَمِ فِي السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى " .سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: ” اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت اور سیدھا رہنا مانگتا ہوں۔ “ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ہیں، یا شاید سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) ” تم ہدایت کے ہمراہ راستے کی ہدایت کو ذہن میں رکھو اور سیدھے رہنے کے ہمراہ تیر کے سیدھے رہنے کو ذہن میں رکھو۔ “ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسی اور میثرہ استعمال کرنے اور شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع کیا تھا۔