صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأدعية - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن المرء إذا كان في حالة ليس له سؤال الرب جل وعلا الحلول من تلك الحالة لأن هذا كلام محال باب: دعاؤں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ اگر آدمی کسی ایسی حالت میں ہو تو اسے اپنے رب جل وعلا سے اس حالت کے حل کی دعا نہیں مانگنی چاہیے، کیونکہ یہ بات ناممکن ہے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلشَّيْطَانِ لَمَّةً ، وَلِلْمَلَكِ لَمَّةً ، فَأَمَّا لَمَّةُ الشَّيْطَانِ فَإِيعَادٌ بِالشَّرِّ وَتَكْذِيبٌ بِالْحَقِّ ، وَأَمَّا لَمَّةُ الْمَلَكِ فَإِيعَادٌ بِالْخَيْرِ وَتَصْدِيقٌ بِالْحَقِّ ، فَمَنْ وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ ، وَمَنْ وَجَدَ الأُخْرَى ، فَلْيَتَعَوَّذْ مِنَ الشَّيْطَانِ " ، ثُمَّ قَرَأَ : الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ سورة البقرة آية 268 .سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بے شک شیطان کا ایک اثر ہوتا ہے اور فرشتے کا ایک اثر ہوتا ہے شیطان کا اثر یہ ہوتا ہے، وہ برائی کی طرف واپس لے کر جاتا ہے اور حق کی تکذیب کرتا ہے اور فرشتے کا اثر یہ ہوتا ہے، وہ بھلائی کی طرف واپس لے کے جاتا ہے اور حق کی تصدیق کرتا ہے، تو جو شخص اس صورتحال کو پائے، تو وہاللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے اور جو شخص دوسری صورت حال کو پائے، تو وہ شیطان سے پناہ مانگے ۔“ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: ” شیطان تمہارے ساتھ غربت کا وعدہ کرتا ہے۔ “