صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأدعية - ذكر الزجر عن استعجال المرء إجابة دعائه إذا دعا باب: دعاؤں کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ آدمی اپنی دعا کے جواب میں جلدی نہ کرے جب وہ دعا کرتا ہے
حدیث نمبر: 975
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعَجَلْ ، فَيَقُولُ : قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” تم میں سے ہر شخص کی دعا مستجاب ہوتی رہتی ہے، جب تک وہ جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ نہیں، کہتا کہ میں نے دعا مانگی تھی لیکن وہ قبول نہیں ہوئی۔ “