صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأدعية - ذكر ما يجب على المرء الدعاء على أعدائه بما فيه ترك حظ نفسه باب: دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے لیے دعا کرے لیکن اپنی ذات کے حصے کو ترک کر دے
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَعْنِي هَذَا الدُّعَاءُ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ لَمَّا شُجَّ وَجْهُهُ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي " ذَنْبَهُمْ بِي مِنَ الشَّجِّ لِوَجْهِي ، لا أَنَّهُ دُعَاءٌ لِلْكُفَّارِ بِالْمَغْفِرَةِ ، وَلَوْ دَعَا لَهُمْ بِالْمَغْفِرَةِ لأَسْلَمُوا فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ لا مَحَالَةَ .سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اے اللہ! تو میری قوم کی مغفرت کر دے کیونکہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس سے مراد یہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا غزوہ اُحد کے دن مانگی تھی۔ جب آپ کا چہرہ زخمی ہو گیا تھا۔ آپ نے یہ فرمایا تھا: ” اے پروردگار! تو میری قوم کی مغفرت کر دے ۔“ یعنی ان کے اس گناہ کی مغفرت کر دے جو انہوں نے میرے چہرے کو زخمی کیا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے، کفار کے لئے مغفرت کی دعا مانگی جا رہی ہے، کیونکہ اگر آپ اس وقت ان کے لئے مغفرت کی دعا مانگ لیتے تو وہ لازمی طور پر اسی وقت مسلمان ہو جاتے۔