صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأدعية - ذكر السبب الذي من أجله أنزل الله جل وعلا فما استكانوا لربهم وما يتضرعون باب: دعاؤں کا بیان - اس سبب کا ذکر کہ جس کی وجہ سے اللہ جل وعلا نے آیت نازل کی: "فما استکانوا لربهم وما یتضرعون"
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغْوَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ النَّحْوِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَنْشُدُكَ اللَّهَ وَالرَّحِمَ فَقَدْ أَكَلْنَا الْعِلْهِزَ ، يَعْنِي الْوَبَرَ وَالدَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ سورة المؤمنون آية 76 .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ابوسفیان بن حرب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر اور اپنے ساتھ رشتے داری کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ ہم لوگ قحط کی شدت کی وجہ سے العلهز (یعنی بال اور خون کھا رہے ہیں) تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: « وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُمُ بِالْعَذَابِ، فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ »۔ (المؤمنون: 76) ” اور ہم نے عذاب کے ذریعے ان پر گرفت کی حالانکہ انہوں نے اپنے پروردگار کے سامنے عاجزی اختیار نہیں کی اور وہ گڑ گڑائے نہیں تھے۔ “