صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأدعية - ذكر ما يستحب للمرء أن يسأل الرب جل وعلا المغفرة لذنوبه وإن كان في لفظه استقصاء باب: دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے رب جل وعلا سے اپنے گناہوں کی مغفرت مانگے، چاہے اس کے لفظ میں تفصیل ہو
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ : " رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي ، وَجَهْلِي ، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ ، وَعَمْدِي وَجَهْلِي ، وَجَدِّي وَهَزْلِي ، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي . اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ ، وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ ، وَمَا أَعْلَنْتُ ، إِنَّكَ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " .سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ ” اے اللہ! میری خطاؤں، میرے جہل، میرے اپنے معاملے میں اسراف کے حوالے سے میری مغفرت کر دے اور ہر چیز کے بارے میں بھی جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے اے اللہ! میری خطاؤں میرے جان بوجھ کر کئے گئے اعمال میرے عمد، میرے جہل میری سنجیدگی اور میرے مذاق اور ہر وہ چیز جو میری طرف سے ہوئی ہے اس کی مغفرت کر دے۔ اے اللہ! جو میں نے پہلے کیا ہے، جو بعد میں کروں گا، جو پوشیدہ طور پر کیا، جو اعلانیہ کیا۔ اس کے حوالے سے میری مغفرت کر دے، بے شک تو آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ “