صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأدعية - ذكر ما يجب على المرء من سؤال الباري تعالى الثبات والاستقامة على ما يقربه إليه بفضل الله علينا بذلك باب: دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ بارئ تعالیٰ سے اس پر ثابت قدمی اور استقامت مانگے جو اسے اس کے قریب کرے، اللہ کے فضل سے ہم پر یہ نعمت ہے
حدیث نمبر: 942
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْ لِي قَوْلا لا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ ، قَالَ : " قُلْ : آمَنْتُ بِاللَّهِ ، ثُمَّ اسْتَقِمْ " .سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے کہ میں آپ کے بعد اس بارے میں کسی اور سے دریافت نہ کروں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کہو، میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس پر استقامت اختیار کرو۔