صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأدعية - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن شعبة لم يسمع من إسماعيل بن علية إلا خبر التزعفر باب: دعاؤں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ شعبہ نے اسماعیل بن علیہ سے صرف تزعفری کی خبر سنی
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَخْبِرْنِي عَنْ دُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " . فَلَقِيتُ إِسْمَاعِيلَ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا : " رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " .عبدالعزیز بن صہیب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ایسی دعا کے بارے میں مجھے بتائیے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مانگا کرتے تھے: انہوں نے بتایا: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے) ” اے اللہ! تو دنیا میں ہمیں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔ “ راوی بیان کرتے ہیں: میری ملاقات اسماعیل سے ہوئی میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: (روایت کے الفاظ یہ ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے: ” اے ہمارے پروردگار! تو دنیا میں ہمیں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔ “