صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأدعية - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الصلاة لا تجوز على أحد إلا على النبي صلى الله عليه وسلم وآله باب: دعاؤں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ صلوٰة صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے آل پر جائز ہے
حدیث نمبر: 917
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَصَدَّقَ إِلَيْهِ أَهْلُ بَيْتٍ بِصَدَقَةٍ ، صَلَّى عَلَيْهِمْ ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ أَبِي إِلَيْهِ بِصَدَقَةٍ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى " .سیدنا ابن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب بھی کسی گھرانے کے لوگ صدقہ لے کر آتے تھے، تو آپ ان کے لئے دعائے رحمت کیا کرتے تھے میرے والد نے اپنا صدقہ آپ کی خدمت میں پیش کیا، تو آپ نے فرمایا: اے اللہ! ابواوفی کی آل پر رحمت نازل کر۔