صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأدعية - ذكر الإباحة للمرء أن يصلي على أخيه المسلم ضد قول من كره ذلك إلا على الأنبياء صلوات الله عليهم فقط باب: دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے صلوٰة پڑھے، اس کے برخلاف جو اسے صرف انبیاء صلوات اللہ علیہم کے لیے جائز سمجھتا ہے
حدیث نمبر: 916
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَادَتْهُ امْرَأَتِي ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي ، فَقَالَ : " صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ " .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو میری بیوی نے بلند آواز میں آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! آپ میرے اور میرے شوہر کے لئے دعائے رحمت کیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تم پر اور تمہارے شوہر پر رحمت نازل کرے۔