صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأدعية - ذكر البيان بأن صلاة الداعي ربه على صفته صلى الله عليه وسلم في دعائه تكون له صدقة عند عدم القدرة عليها باب: دعاؤں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ دعا کرنے والے کی اپنے رب پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت کے مطابق دعا اس کے لیے صدقہ ہوتی ہے جب وہ اس کی طاقت نہ رکھتا ہو
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا الْهَيْثَمَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ صَدَقَةٌ ، فَلْيَقُلْ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ ، وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ، وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ ، فَإِنَّهَا زَكَاةٌ " . وَقَالَ: " لا يَشْبَعُ الْمُؤْمِنُ خَيْرًا حَتَّى يَكُونَ مُنْتَهَاهُ الْجَنَّةُ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جس بھی مسلمان شخص کے پاس صدقہ کرنے کے لئے کوئی چیز نہ ہو، تو وہ یہ دعا مانگے۔ ” اے اللہ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں، ان پر درود نازل کر اور مومن مردوں اور مومن عورتوں اور مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں پر درود نازل کر، تو یہ چیز زکوۃ ہو گی ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” مومن کبھی بھی بھلائی کے حوالے سے سیر نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کا ٹھکانہ جنت ہوتی ہے ۔“