صحیح ابن حبان
كتاب العلم— کتاب: علم کے احکام و مسائل
ذكر إباحة الحسد لمن أوتي الحكمة وعلمها الناس- باب: - اس بات کا ذکر کہ جس شخص کو حکمت و علم عطا کیا گیا ہو اور وہ اسے لوگوں کو سکھاتا ہو، اس پر رشک کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 90
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقَدْامِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ الطَّائِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا حَسَدَ إِلا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ الِلَّهِ مَالا ، فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ الِلَّهِ حِكْمَةً ، فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا " .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” صرف دو طرح کے لوگوں پر رشک کیا جا سکتا ہے، ایک وہ شخص جسےاللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا ہو، اور اسے حق کے راستے میں خرچ کرنے کی توفیق دی ہو۔ ایک وہ شخص جسےاللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی ہے، اور وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہو، اور اس کی تعلیم دیتا ہو۔ “