صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأدعية - ذكر البيان بأن الله جل وعلا إنما يستجيب دعاء من رفع إليه يديه إذا لم يدع بمعصية أو يستعجل الإجابة فيترك الدعاء باب: دعاؤں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس شخص کی دعا قبول کرتا ہے جو اس کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے، بشرطیکہ وہ نافرمانی کے لیے دعا نہ کرے یا جواب کی جلدی نہ کرے اور دعا چھوڑ دے
حدیث نمبر: 881
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَزَالُ يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يَسْتَعْجِلُ ؟ قَالَ : " يَقُولُ : قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي ، فَيَنْحَسِرُ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَيَتْرُكُ الدُّعَاءَ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بندے کی دعا مسلسل قبول ہوتی رہتی ہے، جب تک وہ کسی گناہ، یا قطع رحمی کے بارے میں دعا نہیں کرتا وہ جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ! جلد بازی کا مظاہرہ کرنے سے کیا مراد ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ یہ کہے کہ میں نے دعا مانگی میری دعا قبول نہیں ہوئی، تو ایسی صورت میں وہ بد دل ہو کر دعا مانگنا ترک کر دے ۔“