صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأدعية - ذكر البيان بأن دعوة المظلوم تستجاب له لا محالة وإن أتى عليها البرهة من الدهر باب: دعاؤں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ مظلوم کی دعا بلا شبہ قبول ہوتی ہے، چاہے اس پر کچھ وقت گزر جائے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ " أَمْرٌ بِاتِّقَاءِ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ ، مُرَادُهُ الزَّجْرَ عَمَّا تَوَلَّدَ ذَلِكَ الدُّعَاءُ مِنْهُ ، وَهُوَ الظُّلْمُ ، فَزَجَرَ عَنِ الشَّيْءِ بِالأَمْرِ بِمُجَانَبَةِ مَا تَوَلَّدَ مِنْهُ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” مظلوم کی بددعا سے بچو ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” مظلوم کی بددعا سے بچو “ یہاں آپ نے مظلوم کی بددعا سے بچنے کا حکم دیا ہے، لیکن اس سے مراد اس چیز سے رکنا ہے، جس کے نتیجے میں یہ بدعا سامنے آتی ہے، اور وہ چیز ظلم ہے۔ یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چیز سے رکنے کے حکم کے ذریعے اس سے الگ رہنے کا حکم دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ چیز سامنے آئی ہے۔