صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأذكار - ذكر الشيء الذي يحترز المرء به من فاجئة البلاء حتى يمسي إذا قال ذلك عند الصباح وحتى يصبح إذا قال ذلك عند المساء باب: اذکار کا بیان - اس چیز کا ذکر کہ آدمی اسے صبح کے وقت کہے تو شام تک اور شام کے وقت کہے تو صبح تک اچانک آنے والی مصیبت سے محفوظ رہتا ہے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي الْبِسْطَامِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ : بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ، لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلاءٍ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلاءٍ حَتَّى يُصْبِحَ " . وَقَدْ كَانَ أَصَابَهُ الْفَالِجُ فَقِيلَ لَهُ : أَيْنَ مَا كُنْتَ تُحَدِّثُنَا بِهِ ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ حِينَ أَرَادَ بِي مَا أَرَادَ أَنْسَانِيهَا .سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ یہ کلمات پڑھتا ہے: ” اس اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جس کے نام کے ہمراہ زمین اور آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں دیتی ہے اور وہ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے ۔“ تو شام تک اسے کوئی اچانک مصیبت لاحق نہیں ہوتی جو شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لیتا ہے، تو صبح تک اسے اچانک کوئی مصیبت لاحق نہیں ہوتی۔ راوی بیان کرتا ہے: اسے فالج ہو گیا، تو انہیں کہا: گیا آپ نے ہمیں وہ حدیث سنائی اس پر خود عمل کیوں نہیں کیا، تو انہوں نے بتایا:اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں اس بات کا ارادہ کیا، تو مجھے یہ بات یاد نہیں رہی۔ (یعنی مجھے دعا پڑھنا یاد نہیں رہا)