صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأذكار - ذكر سباق الذاكرين الله كثيرا والذاكرات في القيامة أهل الطاعات إلى الجنة باب: اذکار کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ کے کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں قیامت کے دن طاعت کرنے والوں کے ساتھ جنت کی طرف سبقت لے جاتے ہیں
حدیث نمبر: 858
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ ، فَمَرَّ عَلَى جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ : جُمْدَانَ ، فَقَالَ : " سِيرُوا هَذَا جُمْدَانُ ، سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ ، سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْمُفَرِّدُونَ ؟ قَالَ : " الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے راستے میں سفر کر رہے تھے۔ آپ کا گزر ایک پہاڑ کے پاس سے ہوا جس کا نام ” جمدان “ تھا۔ آپ نے فرمایا: اس ” جمدان کی طرف چلو ” مفردون “ سبقت لے گئے ہیں لوگوں نے عرض کی: وہ کون ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے ذکر کرنے والی خواتین۔