صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأذكار - ذكر استحباب الذكر لله جل وعلا في الأحوال حذر أن يكون المواضع عليه ترة في القيامة باب: اذکار کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا کا ذکر ہر حالت میں مستحب ہے تاکہ وہ مقامات قیامت کے دن اس پر وبال نہ بنیں
حدیث نمبر: 853
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ إِلا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً ، وَمَا مَشَى أَحَدٌ مَمْشًى لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ إِلا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً ، وَمَا أَوَى أَحَدٌ إِلَى فِرَاشِهِ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ إِلا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب بھی کوئی شخص کسی محفل میں اللہ کا ذکر نہیں کرتے، تو وہ ان کے لئے حسرت کا باعث ہو گی جب کوئی شخص کسی راستے پر چلتا ہے اور وہ اس میں اللہ کا ذکر نہیں کرتا، تو وہ اس کے لئے حسرت کا باعث ہو گی اور جب کوئی شخص اپنے بستر پر جاتا ہے اور وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتا، تو یہ اس کے لئے حسرت کا باعث ہو گی ۔“