صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب الأذكار - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من الحمد لله على عصمته إياه عما خرج إليه من حاد عنه باب: اذکار کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی حمد کرے کہ اس نے اسے اس سے محفوظ رکھا جو اس سے ہٹ کر نکلا
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : كَذَّبَنِي عَبْدِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ ، تَكْذِيبِي أَنْ يَقُولَ : أَنَّى يُعِيدُنَا كَمَا بَدَأْنَا ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ : اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا . وَإِنِّي الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے مجھے جھوٹا قرار دیا حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا، اور اس نے مجھے برا کہا: ہے، حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اس کا مجھے جھوٹا قرار دینا یہ ہے کہ وہ یہ کہے:اللہ تعالیٰ نے جیسے ہمیں پہلے پیدا کیا ہے دوبارہ ہمیں کیسے پیدا کرے گا اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہاللہ تعالیٰ کی اولاد ہے، حالانکہ اس کا یہ کہنا جبکہ میں ” صمد “ ہوں میں نے کسی کو جنم نہیں دیا مجھے جنم نہیں دیا گیا اور میرا کوئی ہمسر نہیں ہے ۔“