صحیح ابن حبان
كتاب العلم— کتاب: علم کے احکام و مسائل
ذكر الزجر عن مجالسة أهل الكلام والقدر ومفاتحتهم بالنظر والجدال- باب: - اس ممانعت کا ذکر کہ اہلِ کلام و قدریہ کے ساتھ بیٹھنا، ان سے مناظرے اور بحث و جدال میں پڑنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 80
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ جِدَالُ الْمُنَافِقِ عَلِيمِ اللِّسَانِ " .سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” تم لوگوں کے بارے میں مجھے سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے، تم چرب زبان منافق کے ساتھ بحث کرو گے۔ “