صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب قراءة القرآن - ذكر نزول الملائكة عند قراءة سورة البقرة باب: قرآن کی تلاوت کا بیان - سورہ بقرہ کی قراءت پر فرشتوں کے نازل ہونے کا ذکر
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَيْنَمَا أَنَا أَقْرَأُ اللَّيْلَةَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ إِذْ سَمِعْتُ وَجْبَةً مِنْ خَلْفِي ، فَظَنَنْتُ أَنَّ فَرَسِي انْطَلَقَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ يَا أَبَا عَتِيكٍ " ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا مِثْلُ الْمِصْبَاحِ مُدَلًّى بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اقْرَأْ يَا أَبَا عَتِيكٍ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَمْضِيَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تِلْكَ الْمَلائِكَةُ نَزَلَتْ لِقِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ مَضَيْتَ لَرَأَيْتَ الْعَجَائِبَ " .اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! گزشتہ رات میں سورہ بقرہ کی تلاوت کر رہا تھا۔ اسی دوران میں نے اپنے پیچھے ایک آہٹ سنی مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید میرا گھوڑا چلا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابواسید! تم تلاوت کرتے رہو، میں نے توجہ کی، تو وہاں کچھ چراغ نظر آئے، جو آسمان و زمین کے درمیان موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوعتیک! تم تلاوت کرتے ہو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اب تلاوت جاری نہیں رکھ سکتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ فرشتے تھے جو سورہ بقرہ کی تلاوت کی وجہ سے نازل ہوئے تھے، اگر تم تلاوت جاری رکھتے، تو اور بھی حیران کن چیزیں دیکھتے۔