صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب قراءة القرآن - ذكر الإخبار عن وصف المؤمن والفاجر إذا قرآ القرآن باب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ مومن اور فاجر کی حالت جب وہ قرآن پڑھتے ہیں
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، مَثَلُ الأُتْرُجَّةِ ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلا رِيحَ لَهَا ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ ، أَوِ الْفَاجِرِ ، الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ ، أَوِ الْفَاجِرِ ، الَّذِي لا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ ، طَعْمُهَا مُرٌّ وَلا رِيحَ لَهَا " .سیدنا موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” وہ مومن جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے، اس کی مثال ناشپاتی کی مانند ہے، جس کا ذائقہ بھی میٹھا ہوتا ہے اس کی خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے اور وہ مومن جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا۔ اس کی مثال کھجور کی مانند ہے، جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے، لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی۔ اور جو منافق (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: (فاجر شخص قرآن کی تلاوت کرتا ہے اس کی مثال ریحانہ نامی پھل کی طرح ہے، جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہیں، لیکن اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور جو منافق (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) فاجر شخص قرآن کی تلاوت نہیں کرتا ہے۔ اس کی مثال حنظلہ کی مانند ہے، جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی ۔“