صحیح ابن حبان
كتاب العلم— کتاب: علم کے احکام و مسائل
ذكر الزجر عن مجادلة الناس في كتاب الله مع الأمر بمجانبة من يفعل ذلك- باب: - لوگوں سے کتاب اللہ میں جھگڑنے کی ممانعت اور ان لوگوں سے دور رہنے کے حکم کا ذکر جو ایسا کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ الأَحْوَلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَيُّوبَ ، يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : قَرَأَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الآيَةَ : هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ سورة آل عمران آية 7 إِلَى قَوْلِهِ أُولُو الأَلْبَابِ سورة البقرة آية 269 ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِيهِ فَهُمُ الَّذِينَ عَنَى الِلَّهِ ، فَاحْذَرُوهُمْ " ، قَالَ مَطَرٌ : حَفِظْتُ أَنَّهُ قَالَ : " لا تُجَالِسُوهُمْ فَهُمُ الَّذِينَ عَنَى الِلَّهِ فَاحْذَرُوهُمْ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَيُّوبُ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، وَابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ جَمِيعًا .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی۔
” وہی وہ ذات ہے، جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے، جس میں بعض محکم آیات ہیں اور دوسری متشابہ ہیں۔ “
(یہ آیت یہاں تک ہے) ” سمجھدار لوگ ۔“
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو اس بارے میں بحث کرتے ہیں، تو یہ وہ لوگ ہیں، جواللہ تعالیٰ نے مراد لئے ہیں، تو تم ان لوگوں سے بچو ۔“
مطر نامی راوی کہتے ہیں: مجھے یہ بات یاد ہے، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔
تم ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھنا، کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں، جواللہ تعالیٰ نے مراد لئے ہیں، تو تم ان سے بچنا۔ “
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایوب نے یہ روایت مطر وراق اور ابن ابوملیکہ دونوں سے سنی ہے۔