صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب قراءة القرآن - ذكر الإخبار عن وصف البعض الآخر لقصد النعت في الخبر الذي ذكرناه باب: قرآن کی تلاوت کا بیان - ذکر اس خبر کا جس میں بعض دوسرے لوگوں کی صفت کو بیان کیا گیا ہے تاکہ اس خبر میں مذکور وصف کو واضح کیا جائے
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَ الْكِتَابُ الأَوَّلُ يَنْزِلُ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ ، وَعَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ ، عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ : زَاجِرٌ ، وَآمِرٌ ، وَحَلالٌ ، وَحَرَامٌ ، وَمُحْكَمٌ ، وَمُتَشَابِهٌ ، وَأَمْثَالٌ ، فَأَحِلُّوا حَلالَهُ ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ ، وَافْعَلُوا مَا أُمِرْتُمْ بِهِ ، وَانْتَهُوا عَمَّا نُهِيتُمْ عَنْهُ ، وَاعْتَبِرُوا بِأَمْثَالِهِ ، وَاعْمَلُوا بِمُحْكَمِهِ ، وَآمِنُوا بِمُتَشَابِهِهِ ، وَقُولُوا : آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا " .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” پہلے ایک کتاب ایک دروازے سے ایک حرف کے مطابق نازل ہوتی تھی، لیکن قرآن کو سات دروازوں سے سات حروف کے مطابق نازل کیا گیا (وہ یہ ہیں) ” تنبیہ کرنے والا، حکم دینے والا، حلال، حرام، محکم، متشابہہ اور امثال “ تو تم لوگ اس کے حلال کو حلال قرار دو اس کے حرام کو حرام قرار دو، جس چیز کا تمہیں اس میں حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو اور جس چیز سے تمہیں منع کیا گیا ہے اس سے باز آ جاؤ۔ اس کی مثالوں سے عبرت حاصل کرو اس کے حکم پر عمل کرو اس کے متشابہ پر ایمان لاؤ اور یہ کہو کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ سارے کا سارا ہمارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے ۔“