صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب قراءة القرآن - ذكر تفضل الله جل وعلا على صفيه صلى الله عليه وسلم بكل مسألة سأل بها التخفيف عن أمته في قراءة القرآن بدعوة مستجابة باب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر اس سوال میں فضل کیا جو انہوں نے اپنی امت کے لیے قرآن کی قرأت میں تخفیف کے لیے مانگا، مستجاب دعا کے ساتھ
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِي ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، فَقَرَأَ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا ، فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَمْهَلْتُ حَتَّى انْصَرَفَ ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ ، فَجِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ " ، فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " ، ثُمَّ قَالَ لِي : " اقْرَأْ " ، فَقَرَأْتُ ، فَقَالَ : " هَكَذَا أُنْزِلَتْ ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ " .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ہشام بن حکیم کو تلاوت کرتے ہوئے سنا وہ سورۃ فرقان اس سے مختلف طریقے سے پڑھ رہے تھے جس طریقے سے میں پڑھتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود، مجھے یہ سورہ پڑھنی سکھائی تھی۔ پہلے میں ان پر حملہ کرنے لگا، لیکن پھر میں کچھ ٹھہر گیا جب انہوں نے نماز مکمل کر لی، تو میں نے انہیں ان کی چادر سے پکڑا اور انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: میں نے اس شخص کو سورۃ فرقان کی قرأت اس طریقے سے مختلف طور پر کرتے ہوئے سنا ہے، جو آپ نے مجھے پڑھنا سکھایا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم تلاوت کرو انہوں نے اسی طریقے کے مطابق قرأت کی جس طریقے سے میں نے انہیں سنا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی ہے، پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: تم تلاوت کرو میں نے قرأت کی، تو آپ نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ بیشک یہ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے اس میں سے جو تمہیں آسان لگے اس کے مطابق تلاوت کر لو ۔“