صحیح ابن حبان
كتاب الرقائق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتیوں کے احکام و مسائل
باب قراءة القرآن - ذكر تفضل الله جل وعلا على صفيه صلى الله عليه وسلم بكل مسألة سأل بها التخفيف عن أمته في قراءة القرآن بدعوة مستجابة باب: قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر اس سوال میں فضل کیا جو انہوں نے اپنی امت کے لیے قرآن کی قرأت میں تخفیف کے لیے مانگا، مستجاب دعا کے ساتھ
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ دَخَلا جَمِيعًا ، عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَرَأَ الآخَرُ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَآ " ، فَقَرَآ ، فَقَالَ : " أَحْسَنْتُمَا ، أَوْ ، قَالَ : أَصَبْتُمَا " ، قَالَ : فَلَمَّا ، قَالَ لَهُمَا الَّذِي قَالَ ، كَبُرَ عَلَيَّ ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غَشِيَنِي ، ضَرَبَ فِي صَدْرِي ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَبِّي فَرَقًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُبَيّ ، إِنَّ رَبِّي أَرْسَلَ إِلَيَّ : أَنِ اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ ، فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ : أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي مَرَّتَيْنِ ، فَرَدَّ عَلَيَّ : أَنِ اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، وَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتُهَا مَسْأَلَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأُمَّتِي ، ثُمَّ أَخَّرْتُ الثَّانِيَةَ إِلَى يَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ فِيهِ الْخَلْقُ حَتَّى أَبَرَّهُمْ " .سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ایک شخص اندر آیا اس نے قرأت کرنا شروع کی۔ مجھے اس کی قرآءت نامانوس لگی پھر ایک اور شخص آیا اس نے اپنے اس ساتھی سے کچھ مختلف قرآءت کی پھر اس نے نماز مکمل کر لی، پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس شخص نے اس طریقے کے مطابق قرآءت کی ہے، جو مجھے نامانوس لگا ہے، پھر دوسرے شخص نے اپنے ساتھی سے مختلف طریقے سے قرآءت کی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا تم لوگ تلاوت کرو۔ انہوں نے تلاوت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے اچھی تلاوت کی ہے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ٹھیک تلاوت کی ہے راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو یہ بات کہی، تو مجھے یہ بات بہت گراں گزری جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چیز ملاحظہ کی کہ جو میرے ذہن میں آئی ہے، تو آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا، تو مجھے یوں لگا جیسے میں اس وقت اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابی! بیشک میرے پروردگار نے مجھے پیغام بھجوایا ہے کہ تم ایک حرف کے مطابق قرآن کی تلاوت کرو، تو میں نے دو مرتبہ اس کی بارگاہ میں یہ درخواست کی کہ وہ میری امت کو آسانی فراہم کرے، تو اس نے مجھے یہ حکم دیا کہ تم سات حروف کے مطابق اس کی تلاوت کر سکتے ہو اور تم نے ہر مرتبہ جو دوبارہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس کے عوض میں، میں تمہیں قیامت کے دن سوال کرنے (یعنی شفاعت کرنے کا مرتبہ) عطا کرتا ہوں۔ میں نے درخواست کی اے میرے پروردگار! تو میری امت کی مغفرت کر دے پھر میں نے دوسری دعا کو اس دن کے لئے مؤخر کر دیا ہے، جس دن مخلوق کو اس کی ضرورت ہو گی، یہاں تک کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بھی اس کی ضرورت) ہو گی۔