صحیح ابن حبان
كتاب العلم— کتاب: علم کے احکام و مسائل
ذكر الزجر عن تتبع المتشابه من القرآن للمرء المسلم- باب: - اس ممانعت کا ذکر کہ مسلمان شخص کو قرآن کے متشابہات کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، وَالْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ ثَلاثًا ، مَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ ، فَاعْمَلُوا بِهِ ، وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ ، فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ فَاعْمَلُوا بِهِ " أَضْمَرَ فِيهِ الاسْتِطَاعَةَ ، يُرِيدُ : اعْمَلُوا بِمَا عَرَفْتُمْ مِنَ الْكِتَابِ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، وَقَوْلُهُ : " وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ " فِيهِ الزَّجْرُ عَنْ ضِدِّ هَذَا الأَمْرِ ، وَهُوَ أَنْ لا يَسْأَلُوا مَنَ لا يَعْلَمُ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” مجھ پر قرآن سات حروف میں نازل کیا گیا ہے۔ “ قرآن کے بارے میں بحث کرنا کفر ہے۔
(یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر فرمایا:) ” تمہیں اس میں سے جو چیز سمجھ آ جائے، تم اس پر عمل کرو اور جس چیز کے بارے میں تمہیں علم حاصل نہ ہو سکے، تم اسے
اس کے عالم کی طرف لوٹا دو ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” تمہیں اس میں سے جو چیز سمجھ آ جائے، تم اس پر عمل کرو ۔“ اس میں استطاعت کا ذکر پوشیدہ ہے۔ آپ کی مراد یہ ہے: کتاب کے حوالے سے تم جس حکم کو شناخت کر لو، اس پر اپنی استطاعت کے مطابق عمل کرو۔
روایت کے یہ الفاظ: ” اور جس چیز کے بارے میں تمہیں علم حاصل نہ ہو سکے، تم اسے اس کے عالم کی طرف لوٹا دو ۔“ اس میں اس حکم کی خلاف ورزی کی ممانعت ہے اور وہ حکم یہ ہے: لوگ ایسے شخص سے مسائل دریافت نہ کریں جو علم نہیں رکھتا۔